مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستانی وزیراعظم کی دعوت پر انجام پا رہا ہے اور اس کے پس منظر میں پاکستانی قیادت کی وہ بھرپور سفارتی کاوشیں شامل ہیں جنہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے پاکستانی وزیراعظم، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور حکومت پاکستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام نے ایران کے قومی حقوق کے دفاع اور معاہدے کی کامیابی کے لیے غیرمعمولی کوششیں کیں۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کی امن کے قیام اور معاہدے کی تکمیل کے حوالے سے سنجیدگی اس قدر نمایاں تھی کہ بعض مواقع پر ان کی تشویش اور دلچسپی خود ایرانی حکام سے بھی زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اس دورے کا مقصد صرف اظہار تشکر نہیں بلکہ مفاہمتی معاہدے کی تمام شقوں پر بین الاقوامی قوانین اور ایرانی عوام کے حقوق کے مطابق مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی ہے تاکہ طے شدہ نکات عملی شکل اختیار کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے مؤثر نفاذ سے مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں موجود کئی بحرانوں کے حل میں مدد مل سکتی ہے اور ایسے وقت میں جب صہیونی حکومت کی جانب سے اسلامی ممالک کے خلاف جارحیت اور کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے، یہ پیش رفت علاقائی استحکام اور امن کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایک اہم نکتہ اسلامی ممالک کے خلاف صہیونی جارحیت کی روک تھام ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سفارتی عمل خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے قیام اور جارحانہ اقدامات کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے بتایا کہ دورۂ پاکستان کے دوران تجارت، معیشت، ثقافت، دفاع، سلامتی، علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سمیت ترکیہ، قطر، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی پالیسی ایران کی علاقائی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے، جسے اعلیٰ قیادت کی ہدایات اور حکومتی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ